یہ فلکیات کا ایک بڑا معمہ ہے کہ کائنات نہ صرف پھیل رہی ہے بلکہ تیزی سے پھیل رہی ہے اور اس کی اصل وجہ ابھی تک مکمل طور پر سمجھ میں نہیں آئی۔ کائنات کے پھیلاؤ کو سب سے پہلے ایڈوِن ہبل نے دریافت کیا کہ کہکشائیں ایک دوسرے سے دور جا رہی ہیں۔ اس مشاہدے نے بگ بینگ نظریے کو مضبوط کیا۔
1990 کی دہائی میں سائنسدانوں نے دیکھا کہ کائنات کا پھیلاؤ سست نہیں بلکہ تیز ہو رہا ہے۔
یہ دریافت اتنی اہم تھی کہ اس پر نوبل انعام بھی دیا گیا لیکن اس کی اصل وجہ کیا ہے، یہ ابھی تک ایک معمہ بنا ہوا ہے۔
اس حوالے سے سائنسدانوں نے ایک نظریہ پیش کیا جسے ڈارک انرجی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک پراسرار توانائی ہے جو کائنات کو باہر کی طرف دھکیل رہی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں نہیں معلوم یہ اصل میں کیا ہے یا یہ کیسے کام کرتی ہے۔
Latest Posts
کراچی؛ رینجرز اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ کارروائی، فتنۃ الخوارج کا انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتارآئی فون اور آئی پیڈ صارفین کیلئے نئی ایپ تیارانسٹاگرام کا کم عمر صارفین کے لیے نیا فیچر متعارفکائنات بہت تیزی سے پھیل رہی ہے، سائنسدان ابھی تک وجہ سمجھنے سے قاصرامریکی خاندان کو پانچ برس بعد گمشدہ بلی مل گئی