جب حکمران مثال نہ رہیں تو ریاستیں کمزور ہو جاتی ہیں

جب حکمران مثال نہ رہیں تو ریاستیں کمزور ہو جاتی ہیں

تحریر شیخ فضل الرحمان ایڈووکیٹ

ملک میں بڑھتی مہنگائی، گرتی ہوئی معیشت اور عوامی بے چینی کے اس دور میں جب ہر طرف قربانی اور صبر کی تلقین کی جا رہی ہے، ایسے میں چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کیلئے قومی خزانے سے کروڑوں روپے مالیت کی لگژری گاڑی کی خریداری جیسے اقدامات عوام کے لیے نہایت تکلیف دہ اور سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔
یہ صرف ایک گاڑی نہیں، بلکہ اس سوچ کی عکاسی ہے جہاں حکمران خود کو عوامی مشکلات سے الگ تصور کرتے ہیں۔
دوسری طرف ملک کے معروف ماہرِ معیشت حفیظ پاشا خبردار کر رہے ہیں کہ مارچ تک افراطِ زر کی شرح 12 فیصد تک پہنچ سکتی ہے جبکہ تجارتی خسارہ 7 ارب ڈالر کی خطرناک حد کو چھو سکتا ہے۔ یہ اعداد و شمار صرف نمبرز نہیں بلکہ ایک ایسے طوفان کا پیش خیمہ ہیں جو عام آدمی کی زندگی کو مزید اجیرن بنا سکتا ہے۔
ایسے حالات میں قوم کی نظریں اپنی قیادت پر ہوتی ہیں۔
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ مشکل ترین حالات میں حکمران خود کو بطور مثال پیش کرتے ہیں۔ وہ اپنے اخراجات کم کرتے ہیں، سادگی اختیار کرتے ہیں اور عوام کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ بھی انہی مشکلات کا حصہ ہیں۔ یہی وہ عمل ہوتا ہے جو قوموں میں اعتماد اور استحکام پیدا کرتا ہے۔
لیکن ہمارے ہاں صورتحال اس کے برعکس ہے۔
یہاں ایک طرف فارم 47 کے سائے میں قائم سیاسی ڈھانچے پر پہلے ہی سوالات اٹھ رہے ہیں، تو دوسری طرف عوام پر مہنگائی، ٹیکسز اور بنیادی سہولیات کی قلت کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس تضاد نے حکمرانوں اور عوام کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا دیا ہے۔
حقیقی قیادت وہ ہوتی ہے جو زمینی حقائق کے مطابق فیصلے کرے۔ جو یہ سمجھے کہ ایک دیہاڑی دار مزدور کے لیے پٹرول کی قیمت میں اضافہ کیا معنی رکھتا ہے، ایک سفید پوش طبقہ بجلی کے بلوں تلے کیسے دب رہا ہے، اور گیس کی بندش ایک عام گھرانے کی زندگی کو کس طرح مفلوج کر دیتی ہے۔
جب فیصلے زمینی حقائق سے کٹ کر کیے جائیں، تو وہ مسائل کا حل نہیں بلکہ مسائل میں اضافہ بن جاتے ہیں۔
آج ایک عام شہری مہنگائی کے بوجھ تلے دب کر اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے۔ کاروبار بند ہو رہے ہیں، روزگار کے مواقع کم ہوتے جا رہے ہیں، اور مایوسی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ کئی لوگ انتہائی اقدامات پر مجبور ہو رہے ہیں۔
ایسے میں اگر حکمران طبقہ اپنی شاہانہ طرزِ زندگی برقرار رکھے، تو یہ صرف بے حسی نہیں بلکہ ایک خطرناک پیغام بھی ہے۔
قیادت کا اصل امتحان مشکل وقت میں ہوتا ہے، اور تاریخ میں وہی حکمران کامیاب ٹھہرے جنہوں نے خود کو عوام کے برابر لا کھڑا کیا۔
ریاستیں صرف پالیسیاں بنانے سے نہیں بلکہ مثال قائم کرنے سے مضبوط ہوتی ہیں… اور جب مثال ہی کمزور ہو جائے، تو نظام کا قائم رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔

About daily bbc urdu

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow