وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ حکومت سولرائزیشن کے خلاف نہیں تاہم منصفانہ اور متوازن سولر پالیسی کی حامی ضرور ہے، قومی گرڈ پر صارفین کی واپسی سے اضافی بجلی کی پیداوار سے 12 ارب روپے سے زائد کی بچت ہوئی ہے۔ اویس لغاری نے کہا کہ غیر منظم رؤف ٹاپ سولر سے گرڈ اسٹیبلٹی کے مسائل پیدا ہوتے ہیں، رات کے وقت بجلی کیلئے گیس اور دیگر مستحکم ذرائع ضروری ہیں۔ اویس لغاری نے کہا کہ قطر سے ایل این جی سپلائی متاثر جبکہ طلب میں مینجمنٹ ناگزیر ہے، کھاد سیکٹر کو گیس کی فراہمی ترجیح رہے گی، جس کے باعث کمرشل اور ہائی اینڈ صارفین پر عارضی پابندیاں لگ سکتی ہیں۔
اویس لغاری نے کہا کہ ہم مکمل طور پر کوئلے پر انحصار نہیں کرسکتے، گیس پلانٹس گرڈ کیلئے ضروری ہیں، کوئلہ بیس لوڈ جبکہ گیس پلانٹس لچک دار بجلی فراہم کرتے ہیں۔
Latest Posts
کراچی؛ رینجرز اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ کارروائی، فتنۃ الخوارج کا انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتارآئی فون اور آئی پیڈ صارفین کیلئے نئی ایپ تیارانسٹاگرام کا کم عمر صارفین کے لیے نیا فیچر متعارفکائنات بہت تیزی سے پھیل رہی ہے، سائنسدان ابھی تک وجہ سمجھنے سے قاصرامریکی خاندان کو پانچ برس بعد گمشدہ بلی مل گئی