پاکستان ہر سال مون سون کی بارشوں کے بعد دریاؤں کی طغیانی اور سیلابی ریلوں کا سامنا کرتا ہے۔ دیہات اجڑ جاتے ہیں، لوگ بے گھر ہو جاتے ہیں، بیماریاں پھیلتی ہیں اور کھیت کھلیان تباہ ہو جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ دیکھ کر ایک عام پاکستانی سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آیا یہ صرف قدرتی آفت ہے یا ہماری اپنی بدانتظامی اور غفلت کا نتیجہ؟ سیلاب کے دوران افسران اور اراکین اسمبلی امدادی سرگرمیوں کے بجائے فوٹو سیشنز میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ ریلیف کیمپوں کے مختصر دورے، چند تصاویر اور بیانات میڈیا کی زینت تو ضرور بنتے ہیں مگر عوام کی مشکلات جوں کی توں رہتی ہیں۔ ہر سال اربوں روپے سیلاب سے بچاؤ کے نام پر مختص کیے جاتے ہیں، مگر یہ رقم کہاں خرچ ہوتی ہے؟ اس کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملتا۔ حقیقت یہ ہے کہ سیلاب عوام کے لئے تباہی جبکہ مقتدرہ کے لئے کرپشن کے نئے راستے کھول دیتا ہے۔اصل المیہ یہ ہے کہ مستقل حل کے لیے کسی سنجیدہ کوشش کی جھلک تک نظر نہیں آتی۔ ڈیموں کی تعمیر، بارش اور سیلابی پانی کے ذخیرے، جدید واٹر مینجمنٹ اور سائنسی منصوبہ بندی کے بجائے ہم محض وقتی اقدامات پر اکتفا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ المیہ ہر سال ایک “پیشگی معلوم حادثہ” کی صورت اختیار کر چکا ہے۔یہ صورتحال دراصل ہمارے ہاں پائے جانے والے قحط الرجال کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ آج تک قومی اعزازات اور صدارتی تمغوں میں کتنے ایسے سائنسدان سامنے آئے جنہوں نے اجناس یا سبزیوں کی فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کا کوئی طریقہ ایجاد کیا ہو؟ کتنے آبی ماہرین نے بارش یا سیلابی پانی کے مؤثر استعمال کا کوئی حل دیا؟ کتنے ڈاکٹروں نے زرعی، انسانی یا حیوانی بیماریوں کی کوئی نئی دوا ایجاد کی؟ کتنے انجینئروں نے تعمیراتی یا سائنسی شعبوں میں کوئی نئی اختراع پیش کی؟ اور کتنے معیشت دانوں نے قرضوں کی معیشت سے نجات کا کوئی قابل عمل منصوبہ دیا؟افسوس کہ ہماری قومی پالیسی اور اعزازات کی فہرستیں ان سوالوں کے جوابات نفی میں دیتی ہیں۔ ہم نے اپنے ہیروز کا انتخاب غلط کر لیا ہے۔ تحقیق، ایجاد اور اصلاح کے میدان میں کام کرنے والے گمنام رہ جاتے ہیں جبکہ گلوکار، فنکار اور سطحی تفریح فراہم کرنے والے ہی قومی فخر اور ہیروز قرار پاتے ہیں۔ یہی تو قحط الرجال ہے۔سیلاب اور قحط الرجال دونوں کا بوجھ غریب عوام پر ہی پڑتا ہے۔ وہی اپنا گھر، زمین، مویشی اور روزگار کھوتے ہیں، اور وہی ریاستی ناکامی اور کرپشن کا خمیازہ بھگتتے ہیں۔اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنی ترجیحات کو فوٹو سیشنز اور وقتی شہرت سے ہٹا کر تحقیق، تعلیم، ڈیمز اور مستقل حل کی طرف لے کر جائے۔ بصورت دیگر، یہ سیلابی ریلے ہماری پالیسیوں اور قیادت کی کمزوریوں کو ہر سال بے نقاب کرتے رہیں گے اور قحط الرجال ہماری ترقی کی سب سے بڑی رکاوٹ بنا رہے گا۔
Latest Posts
کراچی؛ رینجرز اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ کارروائی، فتنۃ الخوارج کا انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتارآئی فون اور آئی پیڈ صارفین کیلئے نئی ایپ تیارانسٹاگرام کا کم عمر صارفین کے لیے نیا فیچر متعارفکائنات بہت تیزی سے پھیل رہی ہے، سائنسدان ابھی تک وجہ سمجھنے سے قاصرامریکی خاندان کو پانچ برس بعد گمشدہ بلی مل گئی