تحریر: شیخ فضل الرحمان ایڈووکیٹ
سپریم کورٹ کے ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے نے پورے ملک کے عدالتی و سیاسی ایوانوں میں زلزلہ برپا کر دیا ہے۔ یہ استعفے کسی فرد یا ادارے کے خلاف نہیں بلکہ اس پورے نظام کے خلاف ایک سنگین چارج شیٹ اور عدم اعتماد کا ووٹ ہیں۔ یہ اعلان ہے کہ اب برداشت کی حد ختم ہو چکی ہے۔
جب انصاف دینے والے خود اس نظام سے مایوس ہو جائیں، تو سمجھ لیجیے کہ زوال اپنے عروج پر ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ وہ ججز تھے جو اپنی دیانت، جرات اور آئینی بصیرت کے باعث عدلیہ کے ماتھے کا جھومر سمجھے جاتے تھے۔ ان کا جانا دراصل انصاف کی روح کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
حالیہ آئینی ترمیم نے عدلیہ کو اس حد تک کمزور کر دیا ہے کہ اب کسی بااصول، غیرت مند اور حق گو جج کے لیے اس نظام کا حصہ بنے رہنا ممکن نہیں رہا۔ جب آئین کی تشریح مصلحتوں کے تابع اور انصاف کے فیصلے پسند و ناپسند کی بنیاد پر ہونے لگیں، تو پھر ادارے نہیں، صرف ظاہری ڈھانچے باقی رہ جاتے ہیں۔
یہ استعفے دراصل خاموش احتجاج نہیں بلکہ ایک زناٹے دار تھپڑ ہیں، جو اس نظام کے چہرے پر گونج رہا ہے — اس نظام پر جو انصاف کے نام پر ناانصافی، میرٹ کے نام پر مصلحت، اور آئین کے نام پر مداخلت کو معمول بنا چکا ہے۔
اب سوال یہ نہیں کہ یہ ججز کیوں گئے، بلکہ یہ ہے کہ کتنے اور جج، افسر، اور بااصول افراد کب تک اس بوسیدہ ڈھانچے کا بوجھ اٹھاتے رہیں گے؟ اگر اصلاحات نہ ہوئیں، تو یہ خاموشیاں بہت جلد ایک اجتماعی چیخ میں بدل جائیں گی۔
چیف جسٹس آف پاکستان کے لیے لمحۂ فکریہ ہے کہ وہ عدلیہ کی ساکھ بحال کرنے کے لیے فوری، شفاف اور جرات مندانہ اقدامات کریں، کیونکہ قوم اب مزید سمجھوتوں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
یہ وقت تاریخ لکھنے کا نہیں — تاریخ بدلنے کا ہے۔
–