پروفیسر زاہد خان ایڈووکیٹ نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ورزش انسانی صحت اور تندرستی کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ زندہ رہنے کے لیے خوراک اور پانی۔ یہ نہ صرف جسم کو ظاہری طور پر متناسب بناتی ہے بلکہ اندرونی نظام کو بھی جلا بخشتی ہے۔

ورزش انسانی صحت اور تندرستی کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ زندہ رہنے کے لیے خوراک اور پانی۔ یہ نہ صرف جسم کو ظاہری طور پر متناسب بناتی ہے بلکہ اندرونی نظام کو بھی جلا بخشتی ہے۔جب ہم ورزش کرتے ہیں تو ہمارے پٹھوں کے ریشے مضبوط ہوتے ہیں۔ باقاعدگی سے وزن اٹھانا یا سخت ورزش کرنا ہڈیوں کی کثافت (Density) میں اضافہ کرتا ہے، جس سے بڑھاپے میں ہڈیوں کی کمزوری اور ٹوٹ پھوٹ کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ورزش دل کے پٹھوں کو طاقتور بناتی ہے۔ اس سے دل بہتر طریقے سے خون پمپ کرتا ہے، جس کے نتیجے میں جسم کے ہر حصے کو آکسیجن اور غذائیت بھرپور مقدار میں ملتی ہے۔ یہ بلڈ پریشر کو کنٹرول رکھنے میں بھی مددگار ہے۔ ورزش کرنے والے افراد کا مدافعتی نظام سست الوجود لوگوں کے مقابلے میں زیادہ فعال ہوتا ہے۔ یہ جسم کو بیماریوں اور جراثیم کے خلاف لڑنے کی طاقت فراہم کرتی ہے، جس سے انسان جلد بیمار نہیں ہوتا۔ جسمانی مشقت سے اضافی کیلوریز جلتی ہیں، جو موٹاپے کو روکنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ یہ میٹابولزم کو تیز کرتی ہے، جس سے کھانا جلد ہضم ہوتا ہے اور جسم میں فالتو چربی جمع نہیں ہوتی۔ ایک مشہور قول ہے: “عقلِ سلیم ایک صحت مند جسم میں ہی ہوتی ہے۔”
ورزش کے دوران جسم میں ایسے ہارمونز (Endorphins) پیدا ہوتے ہیں جو تناؤ اور ذہنی دباؤ کو کم کرتے ہیں۔ ایک مضبوط جسم کے ساتھ ساتھ انسان ذہنی طور پر بھی پرسکون اور چاق و چوبند محسوس کرتا ہے۔مختصر یہ کہ ورزش کوئی عیاشی نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے۔ چاہے وہ صبح کی سیر ہو، جم جانا ہو یا کوئی کھیل کھیلنا—روزانہ کم از کم 30 منٹ کی جسمانی سرگرمی آپ کی زندگی بدل سکتی ہے۔ ایک مضبوط جسم ہی ایک کامیاب اور خوشحال زندگی کی بنیاد ہے۔

About daily bbc urdu

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow