کلاس روم میں مزاح۔ تحریر پروفیسر زاہد خاں ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

کہتے ہیں کہ مسکراہٹ دلوں کے بند دروازے کھول دیتی ہے، اور اگر یہ مسکراہٹ کلاس روم میں ہو، تو یہ علم کے بند دروازے کھولنے کی کنجی بن جاتی ہے۔ کلاس روم میں مزاح محض ہنسی مذاق کا نام نہیں، بلکہ یہ تدریس کا ایک مؤثر ہتھیار ہے جو خشک سے خشک سبق کو بھی زندگی بخش دیتا ہے۔
​کلاس روم میں خوشگوار ماحول پیدا کرنے کے کئی مثبت پہلو ہیں۔
​ اکثر طالب علم استاد کے رعب یا مضمون کی سختی کی وجہ سے سوال پوچھنے سے کتراتے ہیں۔ ہلکا پھلکا مزاح اس دیوار کو گرا دیتا ہے اور طالب علم خود کو پر اعتماد محسوس کرتے ہیں۔توجہ کا م انسانی ذہن مسلسل ایک ہی لہجے میں گفتگو سننے سے تھک جاتا ہے۔ ایک بروقت لطیفہ یا دلچسپ جملہ سوئی ہوئی توجہ کو فوراً بیدار کر دیتا ہے۔ نفسیاتی تحقیق بتاتی ہے کہ ہم ان باتوں کو زیادہ دیر تک یاد رکھتے ہیں جن کے ساتھ کوئی خوشگوار احساس یا ہنسی وابستہ ہو۔ امتحانات کا بوجھ اور مشکل فارمولے بچوں کو تناؤ کا شکار کر دیتے ہیں۔ مزاح اس تناؤ کو کم کرنے کے لیے “سیفٹی والو” کا کام کرتا ہے۔مزاح ایک دو دھاری تلوار ہے۔ اگر اس کا استعمال سلیقے سے نہ کیا جائے تو یہ نظم و ضبط کو بگاڑ سکتا ہے۔ استاد کو چند باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ مزاح کا مقصد کسی طالب علم کی کمزوری، اس کے لباس یا اس کی ذات کا مذاق اڑانا ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ اسے “طنز” کے بجائے “ظرافت” ہونا چاہیے۔ سبق کے دوران مزاح اتنا ہی ہونا چاہیے جتنا نمک میں آٹا۔ ایسا نہ ہو کہ ہنسی مذاق میں اصل موضوع ہی پیچھے رہ جائے۔ استاد اور شاگرد کے رشتے کا تقدس برقرار رہنا چاہیے۔ مزاح ایسا ہو جو شائستہ ہو اور اخلاقی حدود کے اندر ہو۔ ایک بہترین استاد وہ ہے جو جانتا ہو کہ کب سنجیدہ ہونا ہے اور کب ماحول کو شگفتہ بنانا ہے۔ جب استاد خود پر ہنسنے کا حوصلہ رکھتا ہے یا کسی مشکل نکتے کو سمجھانے کے لیے کوئی دلچسپ کہانی سناتا ہے، تو وہ طالب علموں کا آئیڈیل بن جاتا ہے۔ کلاس روم میں ہنسی کی گونج اس بات کی علامت ہے کہ وہاں صرف “رٹا” نہیں لگایا جا رہا، بلکہ سیکھنے کا عمل خوشی کے ساتھ جاری ہے۔
​کلاس روم میں مزاح ایک ایسی خوشبو ہے جو بوریت کے تعفن کو ختم کرتی ہے۔ یہ استاد اور طالب علم کے درمیان محبت کا رشتہ استوار کرتا ہے۔ اگر تعلیم کو بوجھ کے بجائے ایک سفر بنانا ہے، تو اس سفر میں مزاح کے اسٹیشنز کا ہونا لازمی ہے۔ “وہ زندہ دل ہے جو ہر حال میں ہنستا رہتا ہے۔غموں کے بیچ بھی خوشیوں کے گل کھلاتا ہے”۔ ​”خشک چشموں سے کہاں پیاس بجھا کرتی ہے
بات بنتی ہے جہاں تھوڑی ظرافت بھی ہو”۔

About daily bbc urdu

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow