معاشی نقصان (Economic Impact) تحریر پروفیسر زاہد خاں ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

تارٰیخ انسانی گواہ ہے کہ جنگیں اور تنازعات کبھی بھی مسائل کا حل ثابت نہیں ہوئے، بلکہ یہ ہمیشہ انسانیت کے لیے تباہی، بربادی اور پسماندگی کا پیغام لے کر آئے۔ “کوسٹ آف کنفلکٹ” (Cost of Conflict) یا “تنازع کی قیمت” محض مالی نقصان کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ان تمام سماجی، نفسیاتی، اور جانی نقصانات کا مجموعہ ہے جو ایک معاشرے کو جنگ کی صورت میں ادا کرنے پڑتے ہیں۔ کسی بھی تنازع کی سب سے پہلی اور براہِ راست ضرب ملک کی معیشت پر پڑتی ہے۔ سڑکیں، پل، بجلی کے گھر اور کارخانے تباہ ہو جاتے ہیں جن کی دوبارہ تعمیر میں دہائیاں لگ جاتی ہیں۔بدامنی کی وجہ سے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کار اپنا پیسہ نکال لیتے ہیں، جس سے بے روزگاری بڑھتی ہے۔تعلیم اور صحت پر خرچ ہونے والا پیسہ اسلحہ اور بارود کی نذر ہو جاتا ہے۔ جنگ کی سب سے دردناک قیمت انسانی جانوں کا ضیاع ہے۔ لاکھوں بے گناہ لوگ لقمہ اجل بن جاتے ہیں، اور جو بچ جاتے ہیں وہ عمر بھر کی معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تنازعات لاکھوں لوگوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر پناہ گزین کیمپوں میں ذلت آمیز زندگی گزارنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔جنگ زدہ علاقوں میں سکول بند ہو جاتے ہیں، جس کا نتیجہ ایک “کھوئی ہوئی نسل” (Lost Generation) کی صورت میں نکلتا ہے۔ جنگ کے سائے صرف زمین پر نہیں، بلکہ انسانی ذہنوں پر بھی گہرے ہوتے ہیں۔
​خوف اور صدمہ: جنگ کا مشاہدہ کرنے والے بچوں اور بڑوں میں PTSD (پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر) جیسی بیماریاں عام ہو جاتی ہیں۔ نفرت کی منتقلی: ایک تنازع نسل در نسل نفرتوں کو جنم دیتا ہے، جس سے امن کی واپسی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔ جدید جنگوں میں استعمال ہونے والا بارود، کیمیکلز اور بمباری نہ صرف زمین کو بنجر کر دیتی ہے بلکہ آب و ہوا کو بھی زہریلا بنا دیتی ہے، جس کا اثر آنے والی نسلوں کی صحت پر پڑتا ہے۔ امن کی قیمت اگرچہ سمجھوتہ اور صبر ہے، لیکن یہ جنگ کی قیمت سے کہیں سستی ہے۔ دنیا کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ گولیوں سے سرحدیں تو بدلی جا سکتی ہیں، مگر خوشحالی صرف مکالمے اور باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے۔

About daily bbc urdu

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow