فعال سیکھنے کا عمل (Active Learning. تحریر پروفیسر زاہد خاں ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

تعلیم صرف معلومات کو ذہن نشین کرنے کا نام نہیں، بلکہ ان معلومات کو سمجھنے اور ان کا اطلاق کرنے کا نام ہے۔ روایتی طریقہ تدریس، جسے “Passive Learning” کہا جاتا ہے، اس میں استاد بولتا ہے اور طالب علم صرف سنتا ہے۔ اس کے برعکس، Active Learning ایک ایسا طریقہ ہے جس میں طالب علموں کو بحث و مباحثے، عملی تجربات اور تجزیاتی سوچ کے ذریعے تعلیمی عمل میں براہ راست شامل کیا جاتا ہے۔ جب طالب علم خود کسی مسئلے کو حل کرتا ہے یا کسی موضوع پر گفتگو کرتا ہے، تو اس کا دماغ زیادہ متحرک ہوتا ہے۔ اس سے نہ صرف معلومات دیر تک یاد رہتی ہیں بلکہ طالب علم میں خود اعتمادی اور تنقیدی سوچ (Critical Thinking) بھی پیدا ہوتی ہے۔ اس طریقہ کار کو اپنانے کے لیے اساتذہ درج ذیل طریقے استعمال کر سکتے ہیں۔ طالب علموں کو گروہوں میں تقسیم کر کے کسی خاص مسئلے پر بات چیت کرنے کا موقع دینا۔ سوچو، جوڑا بناؤ، پہلے طالب علم اکیلے سوچتا ہے، پھر اپنے ساتھی سے مشورہ کرتا ہے اور آخر میں پوری کلاس کے سامنے اپنا خیال پیش کرتا ہے۔ کتابی علم کو کسی عملی پروجیکٹ یا ماڈل کی شکل دینا۔ صرف استاد کا سوال کرنا کافی نہیں، بلکہ طالب علموں کو ترغیب دینا کہ وہ سوالات اٹھائیں۔ بہتر یاداشت: عملی طور پر سیکھی ہوئی چیزیں نظریاتی علم کے مقابلے میں زیادہ دیرپا ہوتی ہیں۔ ٹیم ورک اور دوسروں کی رائے کا احترام کرنا سیکھتے ہیں۔ طالب علم لکیر کا فقیر بننے کے بجائے نئے حل تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگرچہ یہ طریقہ بہت مفید ہے، لیکن اس کے لیے وقت زیادہ درکار ہوتا ہے اور اساتذہ کو زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔ اس کے علاوہ کلاس میں نظم و ضبط برقرار رکھنا بھی ایک چیلنج ہو سکتا ہے۔ مختصراً یہ کہ “Active Learning” دورِ حاضر کی ضرورت ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں صرف ڈگریاں حاصل نہ کریں بلکہ عملی زندگی کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوں، تو ہمیں تعلیمی اداروں میں فعال سیکھنے کے کلچر کو فروغ دینا ہوگا۔

About daily bbc urdu

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow