نمبردار رانا محبوب نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہاڑی کی زرخیز زمین ہمیشہ سے معیاری کپاس کی پیداوار کے لیے مشہور رہی ہے۔ حال ہی میں ضلعی انتظامیہ اور محکمہ زراعت کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والا “نمبردار کنونشن” اس عزم کا اعادہ ہے کہ کپاس کی کاشت کو ایک بار پھر منافع بخش اور قومی ضرورت کے مطابق بنایا جائے۔ دیہی نظام میں “نمبردار” کا عہدہ ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ کنونشن کا بنیادی مقصد نمبرداروں کو متحرک کرنا تھا کیونکہ نمبردار براہِ راست کسانوں سے جڑے ہوتے ہیں اور حکومتی پیغامات کو گھر گھر پہنچا سکتے ہیں۔ وہ اپنے علاقوں میں کاشتکاروں کو جدید زرعی تکنیک اپنانے کے لیے قائل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس مہم کے تحت حکومت اور محکمہ زراعت نے چند اہم اہداف مقرر کیے ہیں۔کسانوں کو آمادہ کرنا کہ وہ دیگر فصلوں کے بجائے کپاس کو ترجیح دیں۔ ایسے بیجوں کی فراہمی جو موسمیاتی تبدیلیوں اور بیماریوں (جیسے سفید مکھی اور گلابی سنڈی) کے خلاف قوتِ مدافعت رکھتے ہوں۔ کھاد، بیج اور زرعی ادویات پر کسانوں کو ریلیف فراہم کرنا تاکہ پیداواری لاگت کم ہو۔ محکمہ انہار کے تعاون سے کپاس کی کاشت کے دوران پانی کی دستیابی کو یقینی بنانا۔ کپاس صرف ایک فصل نہیں بلکہ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کا دارومدار اسی پر ہے۔ کپاس کی زیادہ پیداوار سے خام مال درآمد کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی، جس سے قیمتی زرمبادلہ بچے گا۔ جننگ فیکٹریوں سے لے کر کپڑے کی صنعت تک لاکھوں لوگوں کا روزگار اس سے وابستہ ہے۔
Latest Posts
کراچی؛ رینجرز اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ کارروائی، فتنۃ الخوارج کا انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتارآئی فون اور آئی پیڈ صارفین کیلئے نئی ایپ تیارانسٹاگرام کا کم عمر صارفین کے لیے نیا فیچر متعارفکائنات بہت تیزی سے پھیل رہی ہے، سائنسدان ابھی تک وجہ سمجھنے سے قاصرامریکی خاندان کو پانچ برس بعد گمشدہ بلی مل گئی