پاک ایران تعلقات: ایک نئے عہد کا آغاز. پروفیسر زاہد خاں ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات محض دو ہمسایہ ممالک کے رسمی روابط نہیں بلکہ یہ صدیوں پرانی مشترکہ تہذیب، ثقافت، مذہب اور جغرافیائی اہمیت کے گہرے رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ حالیہ عالمی اور علاقائی تبدیلیوں کے تناظر میں دونوں ممالک کے تعلقات ایک نئے اور پُر امید عہد میں داخل ہو رہے ہیں۔ پاکستان کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک ایران تھا، اور اسی طرح ایران میں 1979 کے انقلاب کے بعد اسے تسلیم کرنے والے اولین ممالک میں پاکستان شامل تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان فارسی زبان، اسلامی اقدار اور صوفیانہ روایات کا ایک ایسا سنگم ہے جو سفارتی تعلقات سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ اقتصادی راہداری اور تجارتی تعاون موجودہ دور میں دونوں ممالک نے اپنی توجہ سیکیورٹی سے ہٹا کر “اقتصادی خوشحالی” پر مرکوز کر دی ہے۔ “پاک ایران گیس پائپ لائن” منصوبہ، جسے “امن پائپ لائن” بھی کہا جاتا ہے، اس نئے عہد کا ایک اہم ستون ہے۔ اس کے علاوہ سرحدی علاقوں میں بارڈر مارکیٹس کا قیام مقامی معیشت کو سہارا دینے اور غیر قانونی تجارت کو روکنے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ علاقائی روابط (Regional Connectivity) سی پیک (CPEC) اور گوادر بندرگاہ کو ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کے ساتھ ایک دوسرے کا متمول (Complementary) بنا کر پیش کرنا خطے میں ایک نئی اقتصادی لہر پیدا کر رہا ہے۔ دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ دشمنی کے بجائے تعاون ہی وسطی ایشیا تک رسائی کا بہترین راستہ ہے۔ سیکیورٹی چیلنجز اور مشترکہ حکمت عملی سرحدی انتظام (Border Management) اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ عزم نے دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے۔ حالیہ اعلیٰ سطحی دوروں اور سیکیورٹی معاہدوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دونوں ریاستیں تیسری قوت کو اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے پر پختہ یقین رکھتی ہیں۔ تعلقات میں بہتری کے باوجود چند چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔ ایران پر عائد عالمی پابندیاں بینکنگ چینلز اور بڑے منصوبوں کی تکمیل میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ پاکستان کے لیے سعودی عرب اور امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے ایران کے ساتھ قریبی روابط استوار رکھنا ایک سفارتی امتحان رہا ہے۔ پاک ایران تعلقات کا نیا عہد “ترقی اور جیو اکنامکس” کا عہد ہے۔ اگر دونوں ممالک اپنی باہمی تجارت کو 5 ارب ڈالر تک لے جانے کے ہدف کو حاصل کر لیتے ہیں اور ریلوے روابط (جیسے کہ آئی ٹی آئی ٹرین) کو فعال کر دیتے ہیں، تو یہ خطہ نہ صرف سیاسی طور پر مستحکم ہوگا بلکہ معاشی طور پر بھی خود کفیل ہو جائے گا۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ پاکستان اور ایران کی دوستی خطے میں امن اور استحکام کی ضمانت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ لفظی دعوؤں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ آنے والی نسلیں ایک خوشحال اور مربوط خطے میں سانس لے سکیں۔

About daily bbc urdu

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow