عارضی حل بمقابلہ مستقل بنیاد. تحریر پروفیسر زاہد خاں ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

یہ ایک بہت ہی دلچسپ اور فکر انگیز موضوع ہے کیونکہ زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں—چاہے وہ کیریئر ہو، تعلقات ہوں یا ملکی پالیسی—ہمیں اکثر ان دو راستوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے: عارضی حل (Stopgap) یا طویل مدتی منصوبہ (Long-term)۔ زندگی فیصلوں کا نام ہے، اور ان فیصلوں کی نوعیت اکثر اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ ہم کتنی دور کی سوچ رہے ہیں۔ بعض اوقات ہم آگ بجھانے کے لیے “عارضی بندوبست” کرتے ہیں، اور کبھی ہم ایسی بنیاد رکھتے ہیں جو نسلوں تک قائم رہے۔ عارضی حل یا ‘Stopgap’ سے مراد وہ فوری اقدامات ہیں جو کسی فوری مسئلے کو حل کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ جب گھر کی چھت ٹپک رہی ہو، تو آپ پہلے بالٹی رکھتے ہیں (عارضی حل) تاکہ نقصان روکا جا سکے، اس سے پہلے کہ آپ پوری چھت کی مرمت کا سوچیں۔ یہ ہمیں وقت فراہم کرتے ہیں تاکہ ہم بہتر منصوبہ بندی کر سکیں۔ اگر عارضی حل کو ہی مستقل سمجھ لیا جائے، تو یہ ایک “ٹائم بم” بن جاتا ہے جو مستقبل میں بڑے نقصان کا باعث بنتا ہے۔ طویل مدتی حکمت عملی وہ ہے جس میں فوری نتائج کے بجائے پائیداری اور مستقبل کے استحکام کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس میں محنت اور وقت زیادہ لگتا ہے، لیکن اس کے نتائج دیرپا ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، شارٹ کٹ سے پیسے کمانے کے بجائے تعلیم اور ہنر حاصل کرنا ایک طویل مدتی سرمایہ کاری ہے۔ طویل مدتی سوچ رکھنے والے لوگ اچانک آنے والی تبدیلیوں سے پریشان نہیں ہوتے کیونکہ ان کا ڈھانچہ مضبوط ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں دونوں کی اپنی جگہ اہمیت ہے۔ ایک کامیاب انسان یا قوم وہ ہے جو۔ بحران کے وقت عقلمندانہ عارضی حل نکالے۔ لیکن اس عارضی حل کو مستقل حل کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دے۔
​عارضی حل صرف ایک سانس لینے کا وقفہ ہونا چاہیے، منزل نہیں۔ اگر ہم صرف “گزارہ” کرنے کی عادت ڈال لیں گے، تو ہم کبھی ترقی نہیں کر سکیں گے۔ حقیقی ترقی ہمیشہ طویل مدتی وژن اور مستقل مزاجی سے ہی ممکن ہے۔

About daily bbc urdu

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Powered by Dragonballsuper Youtube Download animeshow