. وہاڑی (ڈیلی بی بی سی اردو) یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور وہاڑی کیمپس میں ایک علمی و تحقیقی سیمینار منعقد کیا گیا جس کا عنوان ”تحقیقی اخلاقیات، تھیسس نویسی میں مہارت، اور جدید سائنسی تحقیق میں ڈی این اے بارکوڈنگ کا کردار”تھا سیمینار کا اہتمام پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر شیخ اسرار احمد اور اسسٹنٹ پروفیسر زوالواجی ڈاکٹر محمد فرحان ناصر نے کیا۔سیمینار کے مہمانِ خصوصی اور کلیدی مقرر ڈاکٹر عبیر اشتیاق تھے، جو شعبہ زوالوجی، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”تحقیقی اخلاقیات کسی بھی سائنسی تحقیق کی بنیاد ہوتی ہیں، اور جب یہ اخلاقی دائرے میں کی جاتی ہے تو اس کے نتائج مستند اور مؤثر ہوتے ہیں۔ تھیسس نویسی صرف ایک رسمی عمل نہیں بلکہ یہ تحقیق کے جوہر کو نمایاں کرنے کا فن ہے، جبکہ ڈی این اے بارکوڈنگ نے حیاتیاتی تحقیق میں انقلاب برپا کر دیا ہے، جس کے ذریعے انواع کی شناخت تیزی سے ممکن ہو گئی ہے۔پروفیسر ڈاکٹر شیخ اسرار احمد نے سیمینار کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ”ہمارا مقصد طلباء کو نہ صرف جدید تحقیقی طریقہ کار سے روشناس کروانا ہے بلکہ انہیں سائنسی دیانت داری اور اخلاقی اصولوں کی اہمیت سے بھی آگاہ کرنا ہے۔ڈاکٹر محمد فرحان ناصر نے کہاکہ ”تحقیق کا اصل مقصد علم میں اضافہ اور معاشرے کی خدمت ہے ڈی این اے بارکوڈنگ جیسے جدید آلات ہمیں حیاتیاتی تنوع کو بہتر طور پر سمجھنے اور مؤثر طور پر محفوظ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔سیمینار میں شعبہ زوالوجی کے اساتذہ اور طلباء کی بڑی تعداد نے شرکت کی جن میں ڈاکٹر نوید احمد، ڈاکٹر عمران، مس عالیہ، مس آمنہ، مس سعدیہ، مس مریم، مس عشرت، مس افریں، مسٹر فاروق، مسٹر حسن، مسٹر ہارون اور دیگر طلباء شامل تھے سیمینار میں سوال و جواب کے سیشن میں طلباء نے تحقیقی موضوعات پر بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور مقررین سے رہنمائی حاصل کی۔ سیمینار کا اختتام شکریہ کی تقریب پر ہوا جس میں منتظمین کی کاوشوں کو سراہا گیا۔
Latest Posts
کراچی؛ رینجرز اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ کارروائی، فتنۃ الخوارج کا انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتارآئی فون اور آئی پیڈ صارفین کیلئے نئی ایپ تیارانسٹاگرام کا کم عمر صارفین کے لیے نیا فیچر متعارفکائنات بہت تیزی سے پھیل رہی ہے، سائنسدان ابھی تک وجہ سمجھنے سے قاصرامریکی خاندان کو پانچ برس بعد گمشدہ بلی مل گئی